Chaloo Larka
اس نے لنچ پر بلایا تھا اور میں کئی دنوں کی بے آرامی کی وجہ سے دیر تک سویا رہا۔ جبکہ رات موبائل چارج پر لگانا بھی بھول گیا تھا اور وہ تیار ہوکر کال پر کال لگائے جارہی تھی کہ میں اسے پِک کروں گا مگر میری طرف سے جواب ندارد۔ جب آنکھ کھلی اور کھڑکی سے پردہ ہٹایا تو دھوپ سر پر تھی جلدی سے فون چارج پر لگا کر آن کیا کہ اسے سوری کا میسج کرسکوں مگر واٹس ایپ اسکا داغا ہوا میسج "بھاڑ میں جاؤ" جگمگا رہا تھا۔
یوں منانے کی ہر کوشش ناکام ٹھہری کہ لنچ کا وقت گزر چکا۔ میں نے کہہ دیا چلو اب ڈنر میری طرف سے۔ مگر دعوت مسترد کہ ضرورت نہیں ویسے بھی شام فیملی کے ساتھ شاپنگ کیلئے جارہی۔ خیر میں پہلے ہی مطلوبہ سپر سٹور جا پہنچا۔ کافی پہلے سے اسٹاک میں پڑی تھی سوچا کچھ اگر بہانے سے خریدنا ہی ہے تو کافی سہی جس کی عدم دستیابی کسی بھی صورت مجھے گوارا نہیں۔ اتنے میں بوریت دور کرنے سیلز گرل کافی سیکشن مدد کرنے کو آ پہنچی کہ سر آپ آفر والی کافی لیں اس میں ایوری ڈے مفت ملے گا۔ میں ویسے بھی کافی ایوری ڈے میں پیتا ہوں سو اسے کہا اس سے اور اچھی بات کیا ہوگی۔ اس نے رکھنے کو چھوٹی ٹوکری تھمائی میں نے مسکراہٹ کے ساتھ اس کا شکریہ آدا کیا۔
اتنے میں وہ فیملی کے ساتھ مرکزی دروازے سے داخل ہوتی دکھائی دیں میں نے منہ موڑ لیا اور سیلز گرل سے دوبارہ مخاطب ہوا کہ اچھا اگر چائے پر کوئی آفر پیکیج ہے تو وہ بھی دکھائیں۔ وہ پاس ہی دوسرے سیکشن لے گئیں میں نے پھر مسکرا کر شکریہ آدا کیا مگر اتنے میں اس سیکشن میں وہ فیملی سے جدا وارد ہوئیں۔ وہ مجھے مقابل دیکھ کر حیران رہے خیر ہم میں مسکراہٹ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ جب مجھے محسوس ہوا کہ سیلز گرل انہماک سے دیکھ رہی ہے تو میں اگے بڑھ گیا اور اسے کہا محترمہ کیا مجھے رستہ مل سکتا ہے مجھے کاونٹر پے کرنے جانا ہے۔ اس نے منہ بناتے تھوڑا سا رستہ دیا اور یوں ہمارے جسم تقریباً ایک دوسرے کو چھو گئے۔
میں نے کاونٹر بل ادا کیا جب باہر نکلا تو وہ رخصت کرنے آگئیں۔ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور آنے کیلئے شکریہ کہا۔ اور میں نے لنچ پر نہ پہنچنے کیلئے سوری کہا۔ اتنے میں کاونٹر کے مقابل سیلز گرل جھانکتی نظر آئیں۔ میں نے بائیک اسٹارٹ کی اور یہ سوچ کر چل پڑا کہ وہ سیلز گرل نجانے میرے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی کہ کتنا چالو لڑکا تھا۔

Comments
Post a Comment